اطلاعات ہیں کہ میڈیا کے اھلکاروں کو دئے گئے کرفیو پاس بھی کالعدم قراردیدئے گئےہیں۔ یادرہے کشمیر کے مسلمان عوام سیکوریٹی فورسس کےہاتھوں بے گناہ افراد کےقتل کے خلاف احتجاج کررہےہیں اور منگل کو سرکاری فورسس کے ہاتھوں ایک خاتوں اور پانچ نوجوان مارےگئےتھے جس کے بعد وادی میں شدید کشیدگي پھیل گئي۔ ادھر آج کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے وزیراعظم من موہن سنگھ کی صدارت میں کابینہ کا اہم اجلاس ہوا۔ 2008 سے زیر حارست معروف کشمیری لیڈر سید شبیرشاہ کی اہلیہ ڈاکٹر بلقیس نے ریڈیو تہران کے ساتھ اپنے ایک انٹریومیں بتایا ہے کہ فوج آج صبح سے سری نگر کے مختلف علاقوں میں فليگ مارچ کررہی ہے اور پورا شہر سیز کردیا گیا ہے ۔انہوں نے اس کے ساتھ حکومت پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کے خلاف ورزی اور بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے کا الزام لگایا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے سخت بیماری کے باوجد شبیر شاہ کو علاج معالجے کے بغیر جیل میں رکھا ہوا ہے ۔دوسری جانب میڈیا پرپابندی کو صحافیوں نے ایمرجنسی حالات سے تعبیر کیا ہے۔کشمیر کے بگڑتے ہوئے حلات کے تناظر میں ہندوستان کی فوج کے سربراہ کہہ چکے ہیں ہےکہ بدامنی اورتشدد پرکنٹرول حاصل کرنے کے لئے سیاسی راہ حل کی ضرورت ہے۔انہوں نے سیاسی راہ حل پرزوردیتےہوئے کہا کہ ایسے سیاسی اقدامات کرنے ضروری ہیں جو لوگوں میں باہمی محبت پیدا کرسکیں۔ وی کے سنگھ نے دعوی کیا کہ سرحد پار دہشتگردی کے چونتیس اڈے کام کررہےہیں جن میں آٹھ اڈوں میں ٹریننگ دی جاتی ہے اور بقول ان کے تقریبا چھے سو دہشتگرد کشمیر میں سرگرم عمل ہیں۔بہرحال اس وقت کشمیر کے تعلق سے جو صورتحال میڈیا کے ذریعے سامنے لائی جارہی وہ انتہائی گھمبیر ہے اور اسی بناپر وزیر اعظم من موہن سنگھ کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس اھم تصور کیا جارہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110